• Sunday, April 30, 2017

    عصرِ رواں کے مشرکین اور مشرکینِ مکہ میں فرق

    میں تاریخ اسلام کتاب پڑھ رہا ہوں تو جنگ احد کے دوران ہونے والی کچھ باتیں جن کا تعلق عقیدے سے ہے آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ جنگ کی اصل وجہ کیا تھی۔
     ابوسفیان نے ہبل (ایک بزرگ تھا جسے وہ نیوکار اور اپنا مشکل کشا سمجھتے تھے) کی بڑائی کا نعرہ لگایا۔

    یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کی کبرائی کا نعرہ لگایا۔
     پھر ابوسفیان نے کہا: عُزی (بزرگ تھا جس کے بت سے وہ مدد طلب کرتے تھے) ہمارا ہے یا ہمارے لیے ہے وہ تمارے لیئے نہیں ہے۔ 

    پھر جواب میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ ہمارا مولا ہے اور وہ تمہارا مولا نہیں۔
     
    بتانے کا مقصد ہے آج بھی توحید پرست عصرِ رواں کے مشرکین سے کہتے ہیں اپنا عقیدہ ٹھیک کرو تو وہ شرکیہ نعرے لگاتے ہیں۔ بھائی اس سے آپ ہمارا کوئی نقصان نہیں کر رہے آپ اپنی ہی دنیاوآخرت برباد کر رہے ہو مشرکین مکہ کی طرح۔
     
    عصرِ رواں کے مشرکوں اور مشرکین مکہ میں صرف بزرگوں کے ناموں کا ہی فرق ہے کام ایک جیسے ہیں بلکہ مشرکین مکہ سے بھی بدتر۔
    دلیل کے طور پر تصویر منسلک کر دی ہے۔