• Friday, September 16, 2016

    میری پیاری دادی کی چند یادیں

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زندگی عارضی ہے اور کائنات فانی لیکن اس دنیا میں رہنے والے کچھ لوگ اپنے اچھے کردارکی وجہ سے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ میری پیاری دادی حلیمہ بی بی ؒ کا اچھا کردار اور اللہ کے دین سے بے حد پیار لوگوں کی بے شمار دعاؤں کا باعث بنا۔ انہوں نے اکانوے سالہ عمر پائی جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اپنا نصب العین بنائے رکھا۔ میری پیاری دادی 1926 میں چک 17 شہاب دین والا میں پیدا ہوئیں اور 09-09-2016کو میرے آبائی گاؤں چک نمبر 17تحصیل چونیاں، ضلع قصور میں وفات پا گئیں انا للہ و انا الیہ راجعون۔ان کا ایک بھائی اور وہ ٹوٹل چودہ بہنیں تھیں۔ 
    ان کے ٹوٹل بیٹے اور بیٹیوں کی تعداد تیرہ تھی۔ انہوں نے ایک حج اور دو عمرے بھی کیے تھے۔ یہ ان کی محنت، دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے کی اللہ پاک نے ان کی اولاد میں سے کئی لوگوں کو اپنے دین کا داعی بنا لیا ہے۔ مدرسہ جامعہ تعلیم القرآن والحدیث چک نمبر 17 بنوانے میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیاتھا۔ میری پیاری دادی پیسہ جمع کرنے کی بجائے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا پسند کرتی تھی۔ وہ تہجد گزار، اللہ پاک کے رستے میں خرچ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی، روزے دار اور پانچ وقت کی نمازی تھی۔
    ملک عرفان جنرل کونسلر صاحب نے ان کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ:’’ انہوں نے ماشاء اللہ دین کی بہت زیادہ خدمت کی ہے جنتے بھی طالب علم مدرسہ جامعہ تعلیم القرآن والحدیث میں پڑھتے رہے ہیں ان کو انہوں نے شربت بنا کر پیلانا، کھانا کھلانا، دودھ سوڈا وغیرہ اور جس طرح کی بھی خدمت ہو سکی ہے انہوں نے طالب علموں کی خدمت کی ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ہمدرد اور اچھے لوگوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو خاص طور پر دین کے ساتھ جو لوگ وابستہ ہیں ان کی خدمت کریں اور انہیں آگے لے کے آئیں۔ ‘‘
    حافظ عبدالحفیظ صاحب پرنسیپل آف دی نیشن ماڈل سکول چک نمبر 14 نے بتایا کہ :’’ جب میں مدرسہ میں حفظ کرتا تھا تو وہ ہمیں ناشتہ میں سیب یا گاجر کا مربہ کھلاتی اور جس دن مربہ نہیں لاتی تھیں اس دن پیسے دے جاتی تھیں اور تقریبا روزانہ ہی ایسے کرتی تھیں۔ ہماری ہمت بڑھاتی اور اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلاتی تھیں اور ہر طرح کا خیال رکھتی تھیں۔ وہ ہمیں گڑ کھلاتی ، ستو پیلاتی اور بھنے ہوئے دانے کھلاتی تھیں۔ وہ دینی پروگرامز کے لیے بہت زیادہ خرچ کرتی تھی اور مدرسہ کے طالب علموں کواپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔‘‘
    حافظ راشد صاحب نے بتایا کہ:’’ وہ دو سال پہلے ہمارے گھر آئیں اور مجھے کہا حافظ صاحب آج کل آپ نظر ہی نہیں آتے یہ لو دیسی گھی والا گڑاور وہ میری بیگم کو فروٹ دے جاتی تھیں اور کہتی تھی کہ میں تمہارے لیے فروٹ اس وجہ سے لاتی ہو ں کہ تم عالمہ ہو۔ حافظ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ مدرسہ میں جو قاری حضرات تھے ان کو بھی شہد کھلایا کرتی تھیں‘‘۔ گاؤں کے ایک کونے میں مسجد کی اشد ضرورت تھی، میری پیاری دادی کی خواہش تھی کہ وہاں مسجد بنے لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش بھی ان کی آخری عمر میں پوری فرما دی۔ ان کے بیٹے حکیم ابو عبداللہ غلام نبی خادم صاحب نے مسجد کے لیے چودہ مرلے جگہ خرید لی ہے اور ان شاء اللہ اس پر جلد مسجد کی عمارت بنا لی جائے گی۔
    ہر معاشرے کو اچھے کردار، اخلاق اور رویے والے لوگوں کی اشد ضرورت ہے جو امن و انصاف اور محبت و مروت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ میری پیاری دادی اللہ تعالیٰ کے دین سے والہانہ محبت کرتی تھی۔ جو بچے اللہ تعالیٰ کے دین کا علم حاصل کرتے تھے وہ انہیں تحائف دینے میں خوشی محسوس کرتی تھیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی غلطیاں معاف فرماکر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور میری آپ سے اپیل ہے کہ آپ بھی ان کے لیے رحمت کی دعا کیجئے گا۔