• Sunday, June 12, 2016

    اللہ کی محبت

    میری کھالہ کے بیٹے یعنی کزن کی 16 اپریل 2016 کو شادی تھی۔ جس کا دعوت نامہ انہوں نے ہمیں بھیجا تھالیکن میرے گھر والے اس شادی میں جانا نہیں چاہتے تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے میری بہن کی شادی تھی جس میں ہمارےدعوت نامہ بھیجنے کے باوجود کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ حصہ نہیں لے سکے۔لیکن میں نے اپنے گھر والوں کو سمجھانا چاہا کہ انہوں نے ہمیں دعوت نامہ بھیجا ہے لہذا ہمیں شادی کی تقریب میں حصہ لینا چاہیےجس پر میری والدہ سخت ناراض ہوئی اور کہا کہ جو بھی اس شادی میں گیا میرا اس سے تعلق ختم ہے۔ میں نے کہا :"میں تو ضرور جاوں گا کیونکہ اگر کسی حادثے میں کسی کی ٹانگ ٹوٹ جائے اسے کاٹنے کی بجائے جوڑنا چاہیے اسی طرح اگر رشتہ داریاں غلط فہمیوں کی وجہ سے ٹوٹ جائیں تو انہیں ختم کرنے کی بجائے جوڑنا چاہیے۔"
    جیسے جیسے شادی قریب آ رہی تھی میری والدہ کی ناراضگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ انہیں دنوں میں، میں اپنی والدہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور محبت بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا :"ماں آپ کو پتا ہے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟"کہا:"پتا نہیں!" میں نے کہا:"ماں میں سوچ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتیں ہوں گیں؟ کیونکہ آپ اپنے لیئے کپڑے نہیں خریدتی لیکن میرے لیئے نئے کپڑے بناتی ہو۔ آپ خود دودھ نہیں پیتیں لیکن مجھے دودھ پلاتی ہوحتی کہ آپ اپنی ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میری خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہو"۔ کہاکہ :"میں تو تم سے اتنی محبت کرتیں ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتیں ہوں کہ یا اللہ پاک میری اولاد کو تکلیفوں سے بچانا اس کے بدلے چاہیے مجھے مصیبت میں مبتلا کردینا۔ لیکن تم مجھے ناراض کر کے شادی میں جانا چاہتے ہو؟"

    میں نے کہا :"ماں اصل بات یہ ہے کہ میں اس اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنا چاہتا ہوں جو آپ سے  ستر گنا سے بھی زیادہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے کہا ہے کہ صلہ رحمی کرو یعنی رشتہ داریاں جوڑو اور اگر میں رشتہ داریاں جوڑوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھے دنیا و آخرت میں کامیاب کر دیں گے۔"