• Wednesday, March 16, 2016

    مسائلِ وراثت

    دین اسلام اس طریقے کا نام ہے جس نے نہ صرف زندگی کے ہر پہلو بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات پربھی نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وراثت کا مسئلہ جو انسان کی موت کے بعد پیش آتا ہے بہت ہی اہمیت کا حامل ہےاور عام طور پر معاشرے کے دو کمزور طبقے یعنی (یتیم)بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے قطع رحمی اور لڑائی جھگڑے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جس طرح گن پوائنٹ پر قیمتی سازو سامان چھیننا جرم ہے اس سے بھی بڑا جرم ہے کہ وراثت میں حصہ داروں کو ان کا حصہ نہ دینا۔ 
    علم میراث ہر گھر کی ضرورت ہے۔سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"جن علوم کا سیکھنا ضروری ہے وہ تین طرح کے ہیں۔ جبکہ دوسرے علوم کا سیکھنا فضیلت کے باب میں آتا ہے۔ اور وہ یہ ہیں کہ قرآن کی آیات احکام کا سیکھنا، دوسرا سنت نبوی کا علم، تیسرا فرائض یعنی وراثت کا علم جو سارے کا سارا حق پر مبنی ہے،(ابوداؤد،جلددوم،حدیث:1118)۔"اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، یقیناًیہ آدھا علم ہے اور یہ بھلا دیا جائے گا، اور یہ پہلا علم ہوگا جو میری امت سے اٹھا لیا جائے گا،(ابن ماجہ ، جلد دوم، حدیث:878)۔"علم الفرائض سیکھنا اور سیکھانا بہت بڑی نیکی ہے۔ 
    اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورۃ النساء کی آیت نمبر7تا14 اور آیت نمبر176میں واضح کر دیا کہ کس کس وارث کو کتنا کتنا حصہ ملنا ہے۔میت کے کفن ، دفن کے بعد سب سے پہلے اس کے قرض کی ادائیگی کریں ۔اس کے بعد وصیت کو پورا کیا جائے اور خیال رکھیں کہ وصیت،دین (Loan)کی ادائیگی کے بعدتہائی (1/3)حصہ سے کم ہو اور وصیت کسی وارث اور حرام کام کے لیے جائز نہیں۔ان مراحل کےبعد مال کو اصحاب الفروض میں تقسیم کر دیا جائے ۔یاد رکھیں جس طرح وقت پر نمازپڑھنا، روزہ رکھنا اور حج ادا کرنا ضروری ہےاسی طرح میراث کو بانٹنے میں تاخیر نہ کریں کیونکہ دیر کرنے سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔قاتل مقتول کے ترکے سے حصہ نہیں پائے گا۔وراثت میں حصہ دینا زکوۃ دینے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اگر کوئی زندہ شخص وراثت تقسیم کرتا ہے تو جتنا بیٹے کو تو دیے گا اتنا ہی بیٹی کو دینا پڑے گا کیونکہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر مرنے کے بعد ہےزندگی میں یکساں ہی تقسیم کرنا پڑے گا۔کسی بیٹے یا بیٹی کو "عاق نامہ"، کی وجہ سے میراث سے محروم کرنا بلکل غلط ہے۔ مسلم ، غیر مسلم اور غیر مسلم ، مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔بعض کہتے ہیں ہماری بہن نے ہمارے لیے اپنا حق چھوڑ دیا ہے بلکل غلط بات ہے یہ مال ہڑپ کرنے کا بہانا ہے کیونکہ چھوڑے گی تو تب، جب اس کا مال پر قبضہ ہو گا دولت پر تو تم سانپ بن کر بیٹھے ہوئےہو۔ وہ تو رشتہ داریاں ٹوٹنے کے ڈر سے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میرا حق بھی آپ ہی رکھ لیں۔ تم اس کے اتنے ہی ہمدرد ہو تو اپنے مال میں سے اسے دو کہ بہن، مجھے تم سے ڈبل ملا ہے لہذا میرا کچھ مال آپ رکھ لیں۔ اگر کوئی شخص ساری زندگی نمازیں پڑھے، روزے رکھے،زکوۃ اور حج ادا کرے لیکن میراث کا مال حصہ داروں کو نہ دے تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ پیغبروں کی وراثت نہیں چلتی ان کا ترکہ صدقہ کیا جاتا ہےالبتہ انبیاء کرام ایک اور ترکہ یعنی علم کا ترکہ چھوڑ کر جاتے ہیں جو اس علم کو حاصل کرتے ہیں وہ نبیوں کے وارث ہوتے ہیں۔ 
    کتاب و سنت نے قانونِ وراثت سے منہ پھیرنے والوں کو خبردار فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے میراث کے متعلق قواعد و ضوابط بیان فرمانے کے بعد کہا:"یہ (تمام احکام) اللہ کی حدیں ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم)کی فرمانبرداری کرے گا اللہ پاک اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔اور جو اللہ تعالیٰ اور اُسکے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکل جائے گا اس کو اللہ تعالیٰ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا،(النساء:13تا 14)"۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جو اپنے وارث کی میراث سے راہ افرار اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ روز قیامت جنت سے اس کی میراث منقطع فرما دیں گے،(ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:862)"۔اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے،( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)"۔کمزوروں پر ظلم کرنے والو یاد رکھو!خلاف شریعت اقتدار چل جاتاہے لیکن ظلم کا اقتدار نہیں چلتا۔
    میری آپ سےدردمندانہ اپیل ہے کہ ذرا سوچئے:"اگر کوئی آپ کا مال چھینے جس طرح آپ دوسروں کے حقوق دبا رہے ہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔ اندازہ لگائیں اگر جس دولت پر آپ نے قبضہ کیا ہے نہ بھی ہوتی تو تمہارے اخراجات کس نے پورے کرنے تھے۔ آپ نے کبھی غور کیا ہےیہ پیسہ(Wealth)ختم ہونے والا ہےاور اس کے بدلے دنیا و آخرت میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔خیال کریں کہ اگر حکمران آپ پر دباؤ ڈالیں کہ حصہ داروں کو ان کا حق دو تو تم فوراَ دے دو گے اس کا مطلب آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر نہیں بلکہ ان فرمارواؤں کا خوف ہے جنہیں اللہ پاک نے اختیار عطا کیا ہے"۔ میرے بھائیو!تم کیوں اللہ تعالیٰ کی وصیت کو چھوڑ کر اپنی بات کو بلند کرنے کی کوشش کرتے ہو ، کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :"اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا یاد رکھوجو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا، (الاحزاب :36)۔اور فرمایا:"سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے،(النور: 63)"۔ اللہ کی قسم! میں نے دھوکے بازی کے ساتھ میراث کا مال کھانے والوں کو اس دھن کے ساتھ تباہ ہوتے دیکھا ہے۔
    میری صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ :"مسائلِ میراث کے حل کے لیے مناسب اقدام کیئے جائیں اور وراثت کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائےاور جہیز کو ختم کر کے ترکے میں حصہ یقینی بنایا جائے کیونکہ جہیز کی چھری سے حقوقِ وراثت کے گلے کاٹے جا رہے ہیں۔ اگر حکمران اس میں کردار ادا نہیں کریں گے تو قتل و غارت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ وراثت میں حصہ دینے سے اخوت وہمدردی اور محبت و مروت بڑھتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کا حکم اور پیارے پیغبر صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی ہےاور اللہ پاک کے احکامات سے بغاوت اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔میرے بھائیو! ہم میں اللہ تعالیٰ کا عذاب سہنے کی طاقت کہاں لہذا اس سے پہلے کہ ہم پر عذاب آئیں ، توبہ کرو اورلوگوں کا مال انہیں واپس کر دو۔
    از: عبداللہ امانت محمدی