• Thursday, March 10, 2016

    عبداللہ امانت محمدی کے اقوال تیسری قسط

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّٰحَیْمَ


    v  علم پھیلانے والا طالب علم، عالم کہلاتا ہے۔
    v  لوگوں کو شخصیت سے زیادہ حق کو دیکھنا چاہیے۔
    v  رحمٰن کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے۔
    v  مکار سے لڑائی اس کے مقاصد کو پورا کرنے کے مترادف ہے۔
    v  کسی کو اپنا مختاج نہ سمجھو کیونکہ جب تم نہیں ہو گے تو وہ کس کا مختاج ہو گا؟
    v  خوش نصیب لوگ ہی سالوں میں صدیوں جتنا کام کرتے ہیں۔
    v  جو واقعات سے نہیں سیکھتے وہ غافل ہیں اور تجربات سے نہیں سیکھتے وہ جاہل ہیں۔
    v  حوصلہ افزائی اور حوصلہ شکنی سے انسان اپنی منزل کے لیے مزید محنت کرتا ہے۔
    v  کوئی تم پر احسان کرئے تو شکریہ ادا کرو اور اگر تم کسی پر احسان کرو تو شکرے کی طلب نہ رکھو۔
    v  جو خود کچھ نہیں کر سکتے وہ کرنے والوں کے رستے میں روڑے نہ اٹکائیں۔
    v  کسی چیز کا احساس اسے حاصل کرنے پر دلالت کرتا ہے۔
    v  دماغ کی طاقت بازو کی طاقت سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
    v  بے وقوف جگہ بدلنے سے سمجھدار نہیں بنتا۔
    v  ظلم کرنا اور کروانا پسند نہیں کرنا چاہیے۔
    v  جس طرح دنیاوی تعلیم سے غفلت برتنے والے دنیا میں پریشان ہوتے ہیں اسی طرح دینی تعلیم سے غفلت برتنے والے دنیا و آخرت میں پریشان ہوتے ہیں۔(جاری ہے)