• Tuesday, January 26, 2016

    عبداللہ امانت محمدی کے اقوال پہلی قسط

    • سائنس کا علم اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے کیونکہ اس سے ’’ اصل علم ‘‘ ، کو پھیلانا آسان ہے ۔ 
    • ہم مرنے پر اللہ کا حکم مان لیتے ہیں لیکن زندگی بھر نہیں مانتے ۔ 
    • اسلام کو سمجھنے کے لیے کتاب و سنت کی وادی کی سیاحت ضروری ہے ۔
    • شرمندگی سے بچنا چاہتے ہو تو : ’’ اپنا ظاہر و باطن یکساں کر لو ۔ ‘‘ 
    • برے رستے کی منزل اچھی نہیں ہوتی ۔
    • ایک خرابی کئی خرابیوں کو جنم دیتی ہے ۔
    • مظلوم کی ھا ، تباہ کر دیتی ہے ۔
    • محاسبہ کرو کہ تمہاری جدوجہد رحمٰن کے لیے ہیں یا شیطان کے لیے ۔
    • بے حس شخص مردہ آدمی کے برابر ہے۔
    • ہماری قوم کے دل میں اللہ کے ڈر سے زیادہ لوگوں کا خوف ہے ۔
    • کسی کی چھوٹی غلطی کی بنا پر اس کی بڑی اچھائی کو نہ بھولو!
    • اچھے ساتھیوں کی پہچان مشکل کے وقت ہوتی ہے ۔
    • والدین جو مجھے کھانا کھلاتے ہیں تو میں ان کا فرض نہیں بلکہ احسان سمجھتا ہوں۔
    • ہم حکمران تو بننا چاہتے ہیں لیکن ذمہ دار نہیں اور ہم مالدار تو بننا چاہتے ہیں لیکن محنتی نہیں ۔
    • جس طرح نئے درخت لگانے کے ساتھ ساتھ پرانے درختوں کی دیکھ بال ضروری ہے اسطرح غیر مسلموں کو دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اصلاح بھی ضروری ہے ۔
    • عزت دار بننے کا طریقہ :"کسی کو نادم کرنا نہیں بلکہ عزت دینا ہے ۔"
    • بڑوں کا ادب بڑا بنا دیتا ہے ۔
    • اچھے لوگوں کو اکثر اچھے لوگ ہی ملتے ہیں۔
    • علم کو زندہ رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ :"تم اس پر عمل کرو اور دوسروں تک پہنچاؤ ۔"
    • تقوی شخص کو حیوان سے انسان بنا دیتا ہے ۔
    • اکثر لوگوں کو یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ :" کوئی کیا کہنا چاہتا ہے "، لیکن اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ :"اللہ تعالیٰ کیا کہہ رہے ہیں ۔"
    • ہم عبادت کے لئے بنائے گئے ہیں شرارت کے لئے نہیں ۔
    • جو قرابت داروں کا خیر خواہ ہے وہ پوری دنیا کا خیر خواہ ہے ۔
    • یہ نہ کہو :"اللہ نہ کرے "، بلکہ کہو :"اللہ محفوظ فرمائے "۔ کیونکہ اللہ پاک ہمیشہ اچھا ہی کرتا ہے اور پریشانیاں تو ہمارے ہی ہاتھوں کی کمائی ہیں ۔
    • اگر حکمران قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کریں تو ملک سے بدامنی ، افراتفری اور بے چینی جڑ سے ختم ہو جائے۔