• Saturday, January 30, 2016

    آپ بیتی

    بسم الله الرحمن الرحيم
    میرا تعلق ضلع ’’ قصور ‘‘ ، کے ایک گاؤں ’’ چک ۱۷ ‘‘ ، سے ہے ۔ ۲۹ جنوری ۲۰۱۶ کو ہمسایہ گاؤں ’’ چک ۱۵ ‘‘ ، میں ہمارا قریبی رشتہ دار وفات پا گیا تھا انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ میں ، چاچوسردار نیامت اللہ اور ایک مہمان نمازِ جنازہ پڑھ کر پیدل ہی اپنے گاؤں کی جانب چل دیئے ۔ چاچو نے مجھ سے کہا کہ : ’’ عبداللہ ‘‘ ، کوئی بات ہی سنا دو ۔ میں نے کہا : ’’ سب سے بہتر بات سناؤں ؟ ‘‘ کہا: ’’ ضرور ‘‘ ۔ میں نے شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کے بعد سورہ یوسف کی تلاوت شروع کر دی ۔ میں اپنے جوش و جذبے کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا کہ ابھی چھتیس آیات ہی کی تلاوت کی تھی کہ چاچو جی رُک گے اور مجھے ۶۶۶۶ روپے انعام دیا ۔ مجھے سمجھ تو آ گئی تھی کہ ۶۶۶۶ کیوں دیئے اس سے کم یا زیادہ بھی تو دے سکتے تھے ۔ میں نے کہا : ’’ چاچو جی جزاک اللہ خیرا کہ آپ نے مجھے انعام دیا لیکن یہ تو بتایں ۶۶۶۶ ہی کے پیچھے کیا راز ہے ؟ ‘‘ کہا : ’’ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیات ۶۶۶۶ (مشہور یہی ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ اس سے کچھ کم ہیں )ہیں اسلئے ۶۶۶۶ دیئے ہیں ۔ ‘‘ 
    واقعہ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرو اور دوسروں تک پہنچاؤ ۔ جو لوگ کتاب و سنت کی بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں میں ان کو بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والوں کو اللہ پاک اس دنیا میں بھی کامیاب کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔