• Tuesday, December 15, 2015

    مارکیٹنگ پہلی قسط

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّٰحَیْمَ
    مارکیٹنگ ہماری زندگی کا حصہ ہے اور روزانہ ہمارا کسی نہ کسی طرح اس سے سروکار رہتا ہے ۔ کسی بھی کاروبار کی کامیابی کے پیچھے مارکیٹنگ کا بنیادی ہاتھ ہوتا ہے ۔ مارکیٹنگ صرف اشتہار بازی یا کوئی چیزبیچنا نہیں بلکہ خریدار کو جو شے آپ دے رہے ہیں اس سے مطمئن کرنا بھی ہے ۔لہذا مارکیٹنگ کی تعریف اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ : " منصوبہ بندی کا ایسا انداز جس سے گاہک کی تسکین کے لیے اچھی چیز صحیح آدمی کو مناسب قیمت ، مناسب مقام اور ٹھیک وقت پر مہیا کی جا سکے" ۔ کسٹمر کو کسی آفر سے ترغیب دینا بھی مارکیٹنگ کا حصہ ہے ۔آپکی چیز یا سہولت کو استعمال کرنے والے کی رائے بھی اہمیت کی حامل ہے ۔

    ایسا طریقہ جس سے انفرادی اور مجموعی لوگوں کے متعلق یہ معلومات حاصل کی جائے کہ : " ان کی ضرورت کیا ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں کونسی چیز بنوانا یا خریدنا چاہتے ہیں اور اس کی قیمت کیا ہو ، تو ایسے عمل کو مارکیٹنگ پروسیس کہتے ہیں " ۔ مارکیٹنگ پروسیس چار مراحل پر مشتعمل  ہے : " مارکیٹ میں بہترین مواقع کا تجزیہ کرنا ، مارکیٹنگ کی تراکیب تیار کرنا ، مارکیٹنگ کے پروگرام کی منصوبہ بندی کرنا اور مارکیٹ میں ہونے والی کوششوں کو کنٹرول کرنا " ۔ آپ کو کامیاب کاروباری آدمی بننے کے لیے  اپنے حریف (Competitors) اور ماحولیاتی عوامل کے متعلق معلومات رکھنی چاہیے، اگر آپ ان چیزوں سے غافل رہیں گے تو زیادہ دیر مارکیٹ میں نہیں ٹھہر سکیں گے ۔ جب بھی کوئی نئی چیز یا سہولت مارکیٹ میں لائیں تو اس کی قیمت کے متعلق محتاط رہیں کہ اس جیسی شے کا مارکیٹ میں کیا ریٹ ہے اور میں کتنے میں بیچوں تو بہتر ہے ۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ : " کیا آپ سہولت وقت پر مہیا کررہیں ہیں " ۔ کامیاب کمپنیوں ، اداروں اور کاروباری شخصیات کا سب سے بڑا مقصد کسٹمر کا اطمینان ہے جس کے لیے وہ گاہک کو اچھی اور  وعدہ سے بڑھ کر چیزیں فراہم کرتے ہیں جس وجہ سے کسٹمر  سے اچھا تعلق بن جاتا ہے ۔ کسٹمرز ، ڈسٹریبیوٹرز ، ڈیلرز اور سپلائرز سے تبادلہ خیال کریں اور اچھے تعلقات بھی بنائیں جس سے مارکیٹ میں آپکا نیٹ ورک بن جائے گا ۔ چیز بناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ کیا اس کو استعمال کرنے والا اسے آسانی سے خرید سکے گا ۔

    مارکیٹنگ فنکشنز میں : " خریدنا ، بیچنا ، ٹرانسپورٹنگ ، سٹورنگ، سٹینڈڈزنگ اینڈ گریڈنگ، فنانسنگ ، رسک لینا ، مارکیٹنگ کے متعلق معلومات کو محفوظ کرنا وغیرہ ہیں " ۔ سٹورنگ سے مراد ہے کہ : " گوداموں میں مصنوعات کو ذخیرہ کر کے مزید ڈسٹریبیوٹ کرنا " ۔  چیز کے  وزن ، سائز ، حالت ، معیار اور مقدار کو کنٹرول کرنا سٹینڈڈزنگ اینڈ گریڈنگ کہلاتا ہے ۔ مارکیٹر کو کئی دفعہ رسک بھی لینا پڑتا ہے خاص طور جب وہ کوئی نئی چیز متعارف کرواتا ہے کیونکہ اس وقت شے کے کامیاب اور ناکام ہونے کے برابر امکانات ہوتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے یا کاروباری شخص کو ڈیمانڈ مینجمنٹ پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ مارکیٹنگ مینجمنٹ صرف اس بات پر غور نہیں کرتی کہ ڈیمانڈ کس طرح بڑھائی  جا سکے بلکہ اس کی بھی فکر کرتی ہے کے اس کو تبدیل یا کم کس طرح کیا جا سکے ، مثلاَ : " لیسکو والے اشتہار شائع کرتے ہیں کہ بجلی کی بچت ہماری قومی ذمہ داری ہے " ، حالانکہ جتنی زیادہ بجلی استعمال ہوگی انہیں اتنا زیادہ فائدہ ہو گا ۔ ڈیمانڈ کو کم یا مستقل طور پر ختم کرنے کے عمل کو ڈی مارکیٹنگ کہتے ہیں ۔ ایسی حکمت عملی تیار کریں کہ نئے کمسٹرز  متوجہ ہوں اور جو موجودہ صارفین ہیں وہ بھی بر قرار رہیں ۔ گاہک کے ساتھ اس طرح کے تعلقات بنائیں کہ وہ طویل عرصہ آپ کے ساتھ چل سکے اور ہاں !اگر کوئی کسٹمر لین دین کرتے ہوئے خراب ہوتا ہے تو وہ صرف اس خاص معاملے کی خرابی نہیں بلکہ ممکن ہے کہ وہ زندگی بھر آپ سے کوئی لین دین نہ کرے ۔ "

    اکسویں صدی میں مارکیٹنگ مختلف چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے ۔ کسی بھی کاروبار میں داخل ہونے سے پہلے ماحول کا تجزیہ کر لیں۔ اب نئے کاروباربھی  نسبتاَ زیادہ ہو رہے ہیں جس سے مقابلہ بازی بڑھتی ہے ۔ بازار میں چیزیں بنانے یا بیچنے والے زیادہ ہیں جس وجہ سے خریدار  کے اختیارات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ ٹیکنالوجیز اور ترقی کی وجہ سے دینا ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے ۔ کمپیوٹر ، ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنے کاروبار میں تبدلی لائیں اور ان ٹیکنالوجیز کو مارکیٹنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ اپنے مارکیٹنگ کے ساتھیوں سے بات چیت کریں اور اس بات پر بھی غور کریں کہ آپکے حریف اس خاص ضرورت کے لیے کسٹمر کو کیا سہولت مہیا کر رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر : " ٹیلی نار نے ایزی پیسہ کی سہولت متعارف کروائی تو دوسری کمپنیز نے بھی یہ سہولت مہیا کردی جیسے یوفون نے  یو پیسہ اور جاز نے  موبی کیس وغیرہ " ۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کسی بھی کاروبار کی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔

    اپنے ادارے کے اہداف و مقاصد کو پلان کرو اور اپنی قابلیت اور مارکیٹنگ کے موقعوں سے حکمت عملی سے فائدہ اٹھا کر مارکیٹ میں اپنا  مقام بناؤ ۔ کسی کمپنی کا جب تک مینجمنٹ سسٹم نہیں ہو گا اس وقت تک وہ کوئی بھی کام شائشتہ طریقے سے انجام نہیں دے سکیں گے ۔ اپنے آپ کو سوال کرو کہ : " ہمارا کاروبار کیا ہے ، ہمارا کسٹمر کون ہے اور کسٹمرکی خوبی کیا ہے ۔ اپنی مشن سٹیٹمنٹ بنائیں ۔ بزنس پورٹ فولیو (Portfolio)ڈیزائن کریں ۔ بزنس پورٹ فولیو سے مراد ہے کہ : " آپ اس بات کا تجزیہ کریں کہ میرا کاروبار کہاں کھڑا ہے اور مجھے کتنی انوسٹمنٹ اور کرنی چاہیے یا کونسے اقدامات ہیں جن سے  میں اسے بہتر بنا سکتا ہوں " ۔ آپکے کاروبار کی چار صورتیں ہو سکتیں ہیں مثال کے طور پر : " آپ شہد کا کام کرتے ہیں " ۔ نمبر ایک  کہ بازار میں شہد کی مانگ بھی کم ہے اور ان خریداروں میں سے آپ کے کسٹمرز  بھی کم ہیں ۔ نمبر دو  کہ مانگ تو ہے لیکن ان میں سے آپکے گائک کم ہیں ۔نمبر تین  مانگ کم ہے لیکن زیادہ تر خریدار آپ سے شہد لیتے ہیں اور نمبر چار  کہ مانگ بھی ہے اور اکثر خریدار آپ سے شہد لیتے ہیں ۔ اگر آپکا کاروبار نمبر ایک حالت میں ہے تو آپکو اسے ترک کر دینا چاہیے ۔ اگر نمبر دو صورت میں ہے تو آپ مزیدانوسٹمنٹ کریں ، مارکیٹنگ کریں اور مختلف آفرز سے کسٹمرز بڑھائیں ۔ نمبر تین حالت میں مزید انوسٹمنٹ  کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پہلے ہی زیادہ تر خریدار آپکے کسٹمرز ہیں لہذا ادھر سے جو منافع ہے اسے کسی اور جگہ استعمال کریں ۔ اور نمبر چار صورت میں آپ اپنے کاروبار کی حالت برقرار رکھنے کے لیے مختلف تراکیب استعمال کریں ۔

    آپ اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے کئی طریقے استعمال کرسکتے ہیں مثلا: " کمسٹمرز کی آسانی کے لیے انٹرنیٹ پیج بنائیں تاکہ وہ گھر بیٹھے آرڈر دے سکیں اور سٹور بنائیں تاکہ مال زیادہ سے زیادہ ڈسٹربیوٹ ہو سکے ۔ اپنے پروڈکٹ کو کسی نئی مارکیٹ میں بھی لے کر  جائیں یا نئی چیز کو موجودہ مارکیٹ میں لائیں اور آپ نئے پروڈکٹ کو نئی مارکیٹ میں متعارف کر وا کر بھی اللہ پاک کے حکم سے کاروبار کو ترقی کا منہ دیکھا سکتے ہیں "۔مکمل مارکیٹ کو حصوں میں تقسیم کریں اور جو لوگ آپ سے متعقلہ ہیں انہیں اپنی پروڈکٹ یا سہولت کا تعارف کروائیں ۔ مثال کے طور پر : " اگر کسی کالج نے طالب علم داخل کرنے ہیں تو انہیں چاہیے کہ سب کو کہنے کی بجائے میڑک پاس یا میٹرک کا امتحان دینے والے بچوں کو اپنی طرف مائل کریں  "۔ مارکیٹ کو الگ الگ گروپوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو مارکیٹ سیگمین ٹیشن کہتے ہیں ۔اگر کوئی کمپنی سیگمین ٹیشن نہیں کرتی  تو ایسی مارکیٹنگ کو ماس مارکیٹنگ کہتے ہیں ۔  

    کوئی بھی ادارہ اس وقت تک صحیح طریقے سے مواقع اور خطرات کو نہیں جان سکتا جب تک اسے ماحول کے متعلق فہم نہ ہو ۔ مارکیٹنگ ماحول میں وہ تمام لوگ اور طاقتیں جو آپ کو متاثر کر سکتیں ہیں انہیں اپنی صلاحیت اور کسٹمرز سے تعلقات کے ذریقے کنٹرول کریں ۔ مارکیٹنگ انوئرمینٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک مائیکرو انوئرمینٹ اور دوسرا میکرو انوئرمنٹ ۔ مائیکرو انوئرمینٹ میں اداردے کا اندونی ماحول ، سپلائرز ، ڈسٹریبیوٹز ، ایجنسیز، کسٹمرز ، کمپیٹیٹرز اور پبلک پر غور و فکر کیا جاتا ہے  ۔ میکرو انوئرمنٹ میں ڈیموگرافک ، اکنامک ،قدرتی ، ٹیکنالوجی ، سیاسی اور ثقافتی ماحول شامل ہے  ۔ انسانی آبادی کے سائز ، لوکیشن ، عمر ، جنس ، نسل ، قبیلے  اور پیشے کے مطالعہ کو ڈیموگرافی کہتے ہیں ۔ اکنامک انوئرمینٹ سے مراد ہے کہ کسٹمرز کی اکنامک حالت کیسی ہے ۔ آپکے کے کتنے فیصد گاہک تنخواہ پر کام کرتے ہیں اور کتنے اپنا کاروبار کرتے ہیں وغیرہ ۔ ٹیکنالوجیکل انوئرمینٹ سے مراد ہے کہ آپ نئی ٹیکنالوجی پر نظر رکھیں اور جو آپ کے کاروبار کو بہتر بنا سکتی ہے اسے استعمال کریں ۔ سیاسی انوئرمینٹ میں قوانین ، سرکاری ایجنسیز اور دوسرے تیسرے گروپس کے متعلق معلومات رکھیں ۔ ثقافتی ماحول میں دیکھیں کہ لوگ زیادہ تر کیسے کپڑے پہنتے ہیں ، کیا کھاتے پیتے ہیں ، کتنا شعور ہے ، چال ڈھال کیسی ہے اور کیسے گھروں میں رہنا پسند کرتے ہیں وغیرہ ۔
    ہر مارکیٹر کو مارکیٹنگ ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے اور بڑی کمپنیوں نے تو ذاتی مارکیٹنگ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ بنائے ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو بااصول طریقے سے معلومات اکھٹی کریں ۔ مارکیٹنگ ریسرچ کا عمل چار مراحل پر مشتمل ہے : " مسئلہ کیا ہے اور کن پہلووں پر تحقیق کرنی ہے ، پلان کریں کہ ریسرچ کس طرح کرنی ہے ، اس منصوبہ بندی پر عمل کریں اور  اس انفارمیشن سے بہتر نتیجہ اخذ کریں" ۔ آپ ریسرچ کے لیے  مشاہدے ، سروے ،  تجربے ، میل سوال ،  ٹیلی فون انٹرویوزاور انٹرنیٹ سروے بھی کرسکتے ہیں ۔
    آپکی چیز یا سہولت استعمال کرنے والے کے متعلق ریسرچ کریں کہ : " وہ کیسے ، کب ، کہاں ، کیوں اور  کیاخریدتا ہے اور جب اسے کوئی آفر ملتی ہے تو اس کا رویہ کیسا ہے وغیرہ " ۔ آپ ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے خریدار کا کلچر ، سوشل کلاس ، کن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ، فیملی ، عمر ، لائف سٹائل ، شعبہ ، مالی صورت حال ، شخصیت ، سوچ و بچار ، مہذب و عقیدہ ، حرکات و سکنات ، تعلیم اور رویہ دیکھیں ۔ غور و فکر کریں کہ کسٹمر کس کے کہنے پہ چیزیں خریدتا ہے مثال کے طور پر :"کئی دفعہ بیوی،  بچوں کی پسند سے خریدو فروخت ہوتی اور بعض اوقات والدین کی چاہت کے مطابق  "۔ خیال رکھیں کہ آپکا کسٹمر کہا ں کھڑا ہے یعنی وہ صرف کھانے پینے اور پہننے کے خرچے برداشت کر تا ہے یا پھر اپنی حفاظت کرنے اور معاشرے میں اثر و رسوخ بنانے کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے وغیرہ ۔ بزنس مارکیٹ زیادہ تر ایسے ادارے شامل ہوتے ہیں جو چیزیں یا سہولتیں خرید کر اگے بیچتے ہیں ۔
    کوئی  بھی کسٹمر یا کنزیمر (چیز کو استعمال کرنے والا )جب کوئی شے  خریدتا ہے تو وہ  اپنے فوائد خریدتا ہے۔ ایک پروڈکٹ (چیزیا مصنوعات) کچھ بھی ہو وہ مارکیٹ کو توجہ اور حصول کی پیشکش کرتا ہے کہ مجھے استعمال کر کے اپنی خواہش اور ضرورت پوری کر لو ۔ ہر پروڈکٹ کنزیمر کو یہ بھی پیشکش کرتا ہے کہ اسے تین طرح دیکھ سکے  ۔ نمبر ایک کیا کنزیمر کی بنیادی ضرورت پوری ہو رہی ہے ۔ نمبر دو کوالٹی لیول ، خصوصیات ، ڈیزائن ، برانڈ کا نام اور پیکجنگ کیسی ہے اور نمبر تین گارنٹی وغیرہ ۔ خیال رکھیں کہ پروڈکٹ جلدی استعمال ہونے والا ہے یا کافی عرصے تک چلنے والا ہے ۔ ایسا پرو ڈکٹ جو آخری کنزیمر اپنے استعمال کے لیے خریدے اسے کنزیمر پروڈکٹ کہتے ہیں اور کنزیمر پروڈکٹ کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ انڈسٹریل پروڈکٹ ایسے پروڈکٹ کو کہتے ہیں : " جس پر مزید عمل کرنے یا بزنس میں استعمال کرنے کے لیے خریدا جائے " ۔ آپکے پروڈکٹ کا ڈیزائن اورسٹائل ایسا  ہونا چاہیے کہ دیکھنے والا اسے خریدنے پر مجبور ہو جائے ۔ کچھ خریدار ایک خاص برانڈ استعمال کرتے ہیں ۔برانڈ ایک نام ، سائن ، علامت یا ڈیزائن یا ان سب کو ملا کر بنایا جا سکتا ہے جو چیز کو بنانے یا بیچنے یا سہولت مہیا کرنے والے کی شناخت کرتا ہے ۔ برانڈ کا نام رکھتے ہوئے جن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے ان میں سے : " اس کے فوائد اور  خصوصیات ،امتیازی ہو،بولنے ، شناخت اور یاد رکھنے اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنا بھی آسان ہو اور سرکاری حمایت بھی حاصل ہو یعنی رجسٹریشن کروانے کے قابل ہو ۔ "

                    صارفین کے مختلف چیزوں کو چیک کرنے کے ذوق ، ٹیکنالوجی میں تیزی اور مقابلہ بازی زیادہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کو نئے پروڈکٹس اور سہولتیں  لانی پڑتیں ہیں ۔ نئے پروڈکٹ کی نشو و نما تصورات  سے شروع ہوتی ہے اور بہت زیادہ رائے اکھٹی ہوتیں ہیں اوران میں سے بہترین خیالات کو ڈھونڈا جاتا ہے ۔اس کے بعد پروڈکٹ کی مارکیٹنگ تراکیب تیار ہوتیں ہیں کہ اسے مارکیٹ میں کس طرح متعارف کروایا جاسکے ۔ پھر اس بات پر غور و فکر کیا جاتا ہے کہ : " کتنا خرچہ ہے ، کتنے میں بیچنا ہے اور کمپنی کو کیا منافع ہو گا  وغیرہ " ۔ پھر پروڈکٹ کو تیار کیا جاتا ہے اورمارکیٹ میں لا کر ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔ اگر پروڈکٹ مارکیٹنگ ٹیسٹ پاس کر لے تو کمپنی پروڈکٹ لانچ کر دیتی ہے یعنی دل کھول کر تیار اور متعارف کرتی ہے ۔ شروع میں کنزیمر نئے پروڈکٹ کے متعلق معلومات اکھٹی کرتا ہے ۔ اگر  معلومات دلچسپ ہوں تو پھر وہ ٹیسٹ کرتا ہے کہ کیا واقعی یہ میری ضروریات کو پورا کر سکتا ہے ۔ اگر تو اسے حاجت پوری ہوتی دیکھائی دے تو وہ اسے با قاعدہ طور پر استعمال کرنا شروع کردیتا ہے ۔ نئے پروڈکٹ کو بازار میں لانے کے بعد کمپنی کی چاہت ہوتی ہے کہ ان کا پروڈکٹ زیادہ سے زیادہ چل سکے ۔ پروڈکٹ کی زندگی میں پانچ مختلف مراحل آتے ہیں : " نمبر ایک جب اسے تیار کرنے کا سوچا جاتا ہے اور اس پر کام شروع کیا جاتا ہے اس وقت سیل بلکل بھی نہیں ہوتی اور خرچ ہوتا ہے ۔ نمبر دو جب اسے مارکیٹ میں متعارف کروایا  جاتا ہے اس ٹائم سیل کم ہوتی ہے ۔ نمبر تین مارکیٹ میں قبولیت بڑھتی ہے تو منافع بڑھ جاتا ہے ۔ نمبرچار جب سیل کم ہوجاتی ہے اور نمبر پانچ جب سیل بلکل گر جاتی ہے ۔ (جاری ہے)
    اس مضمون کو تیار کرنے کے لیے ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کی کتاب :" Principles of Marketing" ، سے مدد لی گئی ہے ۔