• Tuesday, September 29, 2015

    ختم نبوت اور مرزائیت

    حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی ماننا ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے اور پوری امت اس پر متفق ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ۱۲۴۰۰۰پیغمبر بنائے ، ہر نبی کا اپنا ایک مقام تھا ، لیکن امام الانبیاء ﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے نبی ، رسول اور خاتم الانبیاء بنایا،جو مقام آپ ﷺ کو ملا وہ کسی کو بھی نہیں ملا۔ کیو نکہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے وہ کسی خاص بستی ، شہر یا ملک کے لیے پیغمبر بنا کربھیجے گئے ، لیکن سید المرسلین ء ﷺ پوری دنیا کے لئے رسول ﷺ بنائے گئے۔ کچھ جُھوٹوں نے سید الانبیاء ﷺ کی تعریف ہوتے دیکھ کر دنیا کی شہرت پانے کے لئے نبوت کا دعویٰ کردیا ۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے آخرت میں تو ذلیل و خوار ہوں گئے ہی ،بلکہ اِس دنیا میں بھی انہیں عبرت ناک سزا ملی۔نبوت کے مدعی اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کے لئے جھوٹ اورشعبدہ بازی جسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ، اور لوگوں کے عقیدے خراب کرتے۔
    قرآن و حدیث سے واضح ہے کہ سید المرسلین ﷺ اﷲپاک کے آخری نبی ہیں۔اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں:’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ ﷺ اﷲ تعالٰی کے رسول اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں ‘‘ ، (الاحزاب:۴۰)۔اﷲ پاک نے ایک اور مقام پر فرمایا:’’آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیااور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا‘‘ ، (المائدہ:۳) ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ میری اُمت میں تیس جُھوٹے شخص نبوت کا دعویٰ کریں گے ۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں ۔میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ ،(ترمذی) ۔سید المرسلین ﷺ نے ایک اور مقام پر فرمایا:’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے‘‘ ، (ترمذی)۔اﷲکے رسول ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:’’تم میرے لئے ایسے ہو جیسے ہارونؑ ، موسیٰ ؑ کے لئے تھے البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے‘‘ ، (مسلم)۔ایک دفعہ آنحضور ﷺ نے ایک بدوی کو دعوتِ اسلام دی ۔ بدوی نے ایک گوہ آپ ﷺ کے سامنے چھوڑتے ہوئے کہا:’’ جب تک یہ گوہ آپﷺ پر ایمان نہیں لاتی میں ایمان نہیں لاؤنگا‘‘ ۔ آپ ﷺ نے گوہ سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ :’’ میں کون ہوں ‘‘ ، گوہ نے جواب دیا:’’ انت رسول رب العلمین و خاتم النبیین:آپﷺ رب العالمین کے رسول اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں ‘‘ ، (المستدرک حاکم ) ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے مسیلمہ کذاب(جس نے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا)کے خلاف لشکر کشی کو مؤخر کرنے کے مشورہ پرفرمایا :’’ اب وحی الہٰی منقطع ہوچکی ہے اور دین الہٰی تمام ہو چکا ہے کیا میری زندگی میں ہی اس کا نقصان شروع ہو جائیگا ‘‘ ، (بحوالہ تاریخ الخلفاء از سیوطی ، صفحہ: ۹۴) ، (صادق علی زاھد ، ۲۰۰۶ ،صفحہ : ۲۶) ۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا تو ہو سکتا ہے، لیکن نبی نہیں ۔

    جھو ٹے نبی بہت زیادہ ہوئے ۔ صاف بن صیا د ایک یہودی تھا جو نبی پاک ﷺ کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوا،بظاہر مسلمان تھا اس نے بچپن میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ :۵۴)۔اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ،اس کے پاس سدھایا ہوا ایک گدھا تھا اُس کو مخاطب ہو کر جو کہتا وہ کرنے لگ جاتا،اسے مسلمانوں نے قتل کر دیا ، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ : ۵۵)۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مرتد ہو کر طلیحہ بن خویلد اسدی نے دعویٰ نبوت کیا،جو کہتا تھا جبریل ہر وقت میر ے ساتھ ہیں، موت کے ڈر سے طلیحہ اپنی بیوی کو لے کر شام بھاگ گیا، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰، صفحہ : ۵۶ )۔سو سال سے زیادہ عمر ہونے کے بعد مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا، معجزہ دکھانے لگتا تو الٹا کام ہوتا (یعنی اگر کنویں میں برکت کے لئے آب دہن ڈالتا تو کنویں کا پانی نیچے چلا جاتا) ، حضرت وحشیؓ نے اسے قتل کیا، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ : ۵۸ )۔ سجاع بنت حارث ایک نہا یت فصیحہ بلیغہ اور بلند حوصلہ عورت تھی جو مذہباََ عیسائی تھی نے نبوت کا دعویٰ کیا،سجاع کی فوج اسلامی لشکر کو دیکھ کر بھاگ گئی سجاع کی قوت ختم ہو گئی ،چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور حضرت امیر معاویہؓ کے زمانے میں اس نے اسلام قبول کرلیا اور پرہیز گاری کی زندگی گزار کر فوت ہو گئی، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ : ۶۰) ۔ حضرت ابوعبید بن مسعود ثقفیؓ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے کے بیٹے مختار نے دعویٰ نبوت کیا،شروع میں خارجی مذہب رکھتا تھا اور حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد نبوت کا دعویٰ کر دیا،جو پیشگوئی کرتا اسے چوری سے آدمی بھیج کر پوری کروا لیتا، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ : ۶۱ )۔ اسحاق اخرس شمالی افریقہ میں پیدا ہوا اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا، یہ بہت ہوشیار چا لاک اور ذہین لڑکا تھا ، یہ قرآن پاک ،تورات ، انجیل ، زبور، مختلف زبانیں اورشعبدہ بازی کی تعلیم میں مہارت حاصل کر کے اصفہان آیا ،دس سال کی طویل مدت تک بالکل گونگا بن کر گزار دئیے ایک رات قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا لوگ حیران ہوگئے ، کہنے لگا :’’ میرے پاس فرشتے آئے تھے مجھے حوض کوثر کا پانی پلا گئے ہیں ‘‘ ، اور کہتے تھے کہ :’’میں اﷲ کا نبی ہوں‘‘، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ : ۶۳)۔عبد اﷲ بن میمون اہوازی اور حاجی محمد فراہی بھی نبوت کے دعویٰ دار تھے ، (محمد سیف الرحمٰن ، ۲۰۱۰،صفحہ :۶۵ تا ۷۰ )۔بر صغیر میں مرزا غلام احمد قادیادنی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ جھوٹی نبوت کے مدعی بہت آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے۔ 

    مرزا غلام احمد قادیانی ، ۱۸۳۹ء میں ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا۔اس کا تعلق ایک مغل خاندان سے تھا جو کہ ۱۵۳۰ء میں سمر قند سے ہجرت کر کے آئے اور پنجاب کے ضلع گورداسپور میں قیام پذیر ہو گئے ۔ مرزا کے باپ مرزا غلام مرتضی کو مہا راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں وفاداری کے بدلے نوازا گیا۔مرزا نے ایک شیعہ استاد سے تعلیم حاصل کی ، قادیانی لکھتا ہے :’’ میر ے استاد ایک بزدگ شیعہ تھے ‘‘، ( روحانی خزائن ، جلد: ۱۸ صفحہ: ۲۲۳ ) ۔ قادیانی نے سب سے پہلے ۱۸۷۶ء میں یہ دعویٰ کیا کہ اس پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے، ۱۸۸۳ء میں اس نے وہ وحی چھپوائی اور اپنے آپ کو پیغمبر اور نبی ظاہر کیا ، ۱۸۹۱ء میں اس نے مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ۔پندرہ روپے تنخواہ پر کام کرنے والے قادیانی نے کئی دعوے کئے مثلاََ:’’رحمتہ اللعٰلمین،مسیح موعود ، کرشن،برہمن اوتار، مہدی ، نبی اور رسول ، عین اﷲ ، مجدد،محدث ، بروزی نبی ، غیر تشریعی نبی ، تشریعی نبی، حضرت محمد ﷺ سے افضل نبی اور تمام انبیاء سے افضل ‘‘ ، (صادق علی زاھد ، ۲۰۰۶ ، صفحہ : ۶۷ تا ۶۸ ) ۔ جس پر ۱۸۷۶ ء اور ۱۸۹۱ء کے درمیان جید علماء کی طرف سے اس پر کفر کے فتاویٰ کا آغاز ہو گیا، (بشیر احمد ، تحریک احمدیت، صفحہ : ۱ ) ۔ مرزا نے برطانیہ حکومت سے وفاداری کرتے ہوئے :’’ جہاد کو حرام قرار دیا ‘‘۔’’ مرزا قادیانی احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور میں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء بروز منگل سوا دس بجے صبح کو ہیضہ سے لیٹرین میں مر گیا ‘‘ ، (ضمیمہ اخبار الحکم قادیان ، ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء )۔

    مرزا اﷲ تعالیٰ کا نہیں بلکہ انگریزوں کا بنایا ہوا نبی تھا ۔انگریزوں کو علم تھا کہ :’’جہاد مسلمانوں کی عظمت کا نشان ہے ‘‘،کیوں نہ جہاد کا جذبہ ختم کیا جائے اورمسلمانوں کو مذہبی لڑائی میں اُلجھایا جائے ۔انہوں نے قادیانی کا چناؤ اِس لیے کیا کیونکہ :’’مرزا کا خاندان پہلے ہی انگریز وفاداری میں سند یافتہ تھا‘‘ ، اورقادیانی کچھ پڑا لکھا بھی تھا۔ مرزا انگریزوں کی خواہشات پر پورا اُترا،اِس سے مسلمانوں کو جو نقصان ہوا وہ سب کے سامنے ہے مثلاََ:’’مسلمانوں کو اسلام کے نام پر کفریہ عقائد پر چلایا گیا،اور آج کل قادیانی مسلمانوں کی مسجدوں میں موقع پا کر امامت شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ عقیدہ خراب کرتے ہیں ‘‘ ۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں خود اعتراف کیا ہے کہ :’’وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے‘‘، ( روحانی خزائن ، جلد : ۱۳ صفحہ: ۳۵۰)۔ مسلمانو ! قادیانی تمہارے عیسائیوں اور یہودیوں سے بڑے دشمن ہیں۔

    پیشین گوئی اور معجزہ دلائل نبوت میں سے ہے،مرزا کی جھوٹی پیش گوئیوں کا بھی شمار نہیں۔ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیش گوئی کرتے وقت قادیانی نے اپنے آپ کو اِن الفاظ میں پکارا:’’یاد رکھو! اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز (محمدی بیگم کا مرزا کے نکاح میں آنا)پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا‘‘، (روحانی خزائن ، جلد : ۱۱ ، صفحہ : ۳۳۸) ،جو کہ مرزا کے جہنم واصل ہونے تک پوری نہیں ہوئی۔مرزا اپنی عمر کے بارے میں الہام بیان کرتا ہے: ’’ خدا تیری عمر دراز کرے گا۔۸۰ برس ،یا پانچ چار زیادہ، یا پانچ چارکم ‘‘، (روحانی خزائن، جلد: ۲۲، صفحہ: ۱۰۰) ، جبکہ اُس کی عمر ۶۹ برس ہوئی۔ مولانا ثناء اﷲ امرتسری کے ساتھ مناظرہ اور مباہلہ میں مرزا نے ۱۵اپریل ۱۹۰۷ء کو بذریعہ اشتہار اعلان کرکے بددعا کی کہ:’’ جھوٹا سچے کی زندگی میں طاعون یا ہیضہ سے مرجائے‘‘، (مجموعہ اشتہارات، جلد: ۳ صفحہ: ۵۷۸ ) ، (صادق علی زاھد، ۲۰۰۶ ،صفحہ :۸۷ تا ۸۸ )،مولاناثناء اﷲ امرتسری کی زندگی میں ہی قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو ہیضہ سے مر گیا ، جبکہ مولانا ثناء اﷲ امرتسری ۱۹۴۸ء تک زندہ رہے ۔ایک پادری آتھم کے ساتھ مرزا ۱۵ دن تک مناظرہ کرتا رہا کامیاب نہ ہوا تو ، اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کیلئے قادیانی نے یہ الہام بنایا کہ:’’ آتھم پندرہ مہینوں میں مرجائے گا لیکن اتنی مدت میں وہ نہ مرا‘‘، جبکہ مرزا کہتا تھا:’’کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے‘‘، (روحانی خزائن، جلد: ۱۵، صفحہ: ۳۸۲)۔ دوسری جگہ لکھتا ہے: ’’بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کیلئے ہماری پیشگو ئی سے بڑ ھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا‘‘، (روحانی خزائن، جلد : ۵، صفحہ: ۲۸۸)۔ مرزا کی پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئیں ،جبکہ کسی نبی کی کوئی بھی پیشگوئی غلط نہیں ہوتی۔

    جھوٹ ہر مذہب میں حرام ہے اور تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ مرزا قادیانی ایک مقام پر لکھتا ہے:’’ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو، اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اُٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔ اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے۔ اور اسکی سخت توہین کی جائے گی ۔ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج ، اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا‘‘ ، (روحانی خزا ئن ، جلد: ۱۷ ، صفحہ: ۴۰۴ ) ، یہ خالص جھوٹ ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث میں مسیح موعود کے بارے میں کہیں ایسا مضمون نہیں ہے یہ چھ پیشگوئیاں جو مرزا قادیانی نے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ سے منسوب کی ہیں قطعاََ سفید جھوٹ ہے۔ ایک اور جگہ لکھتا ہے :’’ ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہو گئیں ‘‘، ( روحانی خزائن ، جلد: ۲۱ ، صفحہ : ۳۵۹ )۔ کتاب البر یہ میں لکھتا ہے :’’ بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا۔ اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد: ۱۳ ، صفحہ : ۲۰۵ تا ۲۰۶ ، حاشیہ) ، ( عبدالرحمٰن باوا، مرزا کے جھوٹ ، صفحہ : ۵ تا ۶ ) ، ان عبا رتوں اور ان جیسی دیگر عبارتوں میں مرزا نے دو صریح جھوٹ بولے ہیں ۔ اول یہ کہ اہل کشف نے مسیح موعود کے چودھویں صدی کے شروع میں آنے کی خبر دی ہے ، حالانکہ کسی ایک بزرگ سے اس طرح کا کوئی قول منقول نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ احادیث صحیحہ سے مسیح موعود کے چودھویں صدی میں آنے کا پتہ چلتا ہے ۔ یہ کھلا جھوٹ ہے مرزائی قیامت تک بھی کوئی ایک صحیح حدیث پیش نہیں کر سکتے ، جس میں اس طرح کا مضمون ہو۔ جبکہ مرزا خود بھی جھوٹ کے بارے میں کہتا ہے :’’ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔‘‘، (روحانی خزائن، جلد : ۱۷ ، صفحہ: ۵۶ ، حاشیہ )، ایک اور مقام پر لکھتا ہے :’’ جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے ‘‘، ( روحانی خزائن ، جلد: ۲۲ ، صفحہ: ۲۱۵ )۔قادیانی نے اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کے لیے بے شمار جھوٹ بولے ، مرزا نبی نہیں ، کذاب تھا ۔ 

    گالی گلوچ اور تضاد بیانی ، مرزا کی عادت تھی ۔ قرآن و حدیث ، گالی گلوچ کے اتنا خلاف ہے کہ :’’ معبودانِ باطلہ اور شیطان کو بھی گالی دینے سے منع کیا گیا ہے ‘‘۔ جبکہ قادیانی نے گالیاں دیتے ہوئے کہا :’’ لئیم ، شیطان ، لعنتی ، پاگلوں کا نطفہ، خبیث ، مفسد ، منحوس ،ذلیل ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۲۲، صفحہ : ۴۴۵ تا ۴۴۶ )۔ایک اور مقام پر مرزا صاحب فرماتے ہیں :’’ جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد:۹ ، صفحہ : ۳۱ )۔قادیانی نے خواتین کو بھی معاف نہیں کیا ، کہتا تھا :’’ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۱۴ ، صفحہ : ۵۳ ) ۔ لعنت کرتے ہوئے مرزا نے یہ نہیں لکھا ، ۱۰۰۰ لعنت ، بلکہ پانچ صفحے صرف لفظ لعنت سے برھ دئے ، (روحانی خزائن ، جلد : ۸ ، صفحہ : ۱۵۸ تا ۱۶۲ )۔ جبکہ مرزا کہتا تھا :’’ لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں ، مومن لعان نہیں ہوتا ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۳ ، صفحہ : ۴۵۶ )۔ قادیانی اپنی ایک بات پر قائم بھی نہیں رہتا تھا ، جیسا کہ : ’’ مسیح کی قبر شام میں ہے ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۸ ، صفحہ : ۲۹۶ تا ۲۹۷ )۔ ایک اور جگہ لکھتا ہے : ’’ مسیح کی قبر سری نگر میں ہے ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۱۵ ، صفحہ : ۱۴ ) عمر کے بارے میں کہتا ہے : ’’ مسیح کی عمر ۱۲۰ سال تھی ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۱۵ ، صفحہ : ۱۴ ) ۔ دوسرے مقام پر لکھتا ہے : ’’ مسیح کی عمر ۱۲۵ سال تھی ‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۱۵ ، صفحہ : ۵۵ )۔ تضادبیانی کس کی نشانی ہے ؟ مرزا نے لکھا: ’’ جھوٹے کے کلام میں تناقص ضرور ہوتا ہے‘‘ ، (روحانی خزائن ، جلد : ۲۱ ، صفحہ : ۲۷۵ ) ۔ کیا کوئی نبی گالیوں اور تضادبیانیوں کا مرتکب ہو سکتا ہے ؟ 

    عقیدہ ختمِ نبوّت ایسا عقیدہ ہے اگر کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں تو وہ اسلام سے خارج ہے ۔ کتاب و سنت سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ :’’ حضرت محمد ﷺ اﷲتعالیٰ کے آخری نبی ہیں ‘‘ ، اگر پھر بھی کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ رحمٰن کا نہیں، شیطان کا نبی ہے ۔ خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد بہت کذابوں نے نبوت کا دعوی کیا لیکن ذلیل و خوار ہو گئے، جن میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے ۔ جس نے انگریزوں کے اشارے پر نبوت کا دعویٰ کیا اور مسلمانوں میں فساد، فرقہ واریت ، کفریہ عقائد، محبوبِ خدا ﷺ سے نفرت ، صحابہ کرامؓ کی گستاخی اور لڑائی جھگڑے کا بیج بویا۔ جس نے بے شمار پیشگوئیاں کیں جن میں سے زیادہ تر اُلٹ ثابت ہوئیں ، اور اپنے آپ کو نبی ظاہر کرنے کے لئے لا تعداد جھوٹ بولے اور گالیوں کا سہارا لیا ۔ مرزائیت ملک و قوم کے لئے ایک زہر ناک تحریک سے کم نہیں ۔