• Tuesday, September 29, 2015

    ترقی کی بجائے تنزلی کیوں؟

    پاکستان کو بنے ہو ئے۶۸سال ہو گئے ہیں ۔ دن بہ دن پریشانی میں اضافہ،غیروں کی یلغار کا خطرہ ،مشکلات،لوڈشیڈنگ،گیس بند،آٹا ختم،پانی آتا نہیں اوراگر آتا ہے تو فصلیں تباہ کرجاتا ہے، بیماریوں میں اضافہ،دہشتگردی،خود کش دھماکے ،امن کی امید ختم،کامیابی نہیں ناکامی ،قتل و غارت ، چوریاں اور مہنگائی مُلک کا مقدرکیوں بنا ہوا ہے ؟ اِن سب چیزوں کی بڑی وجوہات میں سے سود ایک بہت بڑی وجہ ہے۔اﷲ پاک فرماتے ہیں اے ایمان والو!اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو،اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اﷲ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺسے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے ، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ، (البقرۃ،۲۷۸ تا۲۷۹) ۔ اب بتاؤ !جو قوم اﷲ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کر رہی ہو وہ کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ ہم جتنی مرضی محنت کرلیں ،رات دن ایک کر دیں ،ترقی کی بجائے تنزلی ہی کی طرف جائیں گے کیونکہ اﷲ پاک فرماتے ہیں :’’اﷲ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتاہے‘‘ ، (البقرۃ،۱۷۶) ۔ جب تک مُلک میں نظام زکوۃ قائم نہ ہوگا ہمیں پریشانیوں سے چھٹکارا نہیں مل سکتا ۔
    سود فارسی زبان کا لفظ ہے ،عربی میں اسے ربا ،اُردُو میں منافع اور انگلش میں Interest کہتے ہیں۔قرض کی رقم کے علاوہ جو پیسے لیے جائیں اسے سود کہتے ہیں۔حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا :’’ہر وہ قرض جو فائدے کا باعث بنے وہ سود ہے ‘ ‘ ، (جامع الصغیر) ۔ اور اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اے ایمان والو !بڑھا چڑھا کر سود نہ کھا ؤ ،اور اﷲتعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے ‘‘، (آل عمران،۱۳۰) ۔ اگر ایک چیز کی دو قیمتیں مقررکی جائیں مثلاََ:ایک ہی آدمی کوادھار مہنگی اورنقدسستی یا وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ لگا دینابھی سود ہے۔سود کی بہت زیادہ قسمیں ہیں ،اِن سے ایسے بچیں جیسے آگ سے بچتے ہو۔ 
    سود کے نقصانات ہی نقصانات ہیں۔سودکی وجہ سے سنگدلی ،ما ل و دولت کی حرص،کنجوسی،مفت خوری ،زرپرستی ،مفاد پرستی ،غریب کا غریب تر ہونا،مال کی گردش رک جانااور مجبور لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔اسلام برابری کا درس دیتا ہے جبکہ سودی نظام امیر اور غریب میں فرق ظاہر کرتا ہے،دولت مند فائدہ حاصل کرتا ہے اور کمزور ،پریشانی اور زیادہ تنزلی کی طرف دھکیل دیا جاتاہے ۔ نظامِ ربا میں پیسہ غریبوں سے امیروں کی طرف جاتاہے ،جیسا کہ جیمس رابرٹس نے کہا ہے:’’سود کا عام کردار معاشی نظام میں یہ ہوتا ہے کہ یہ خود کا ر طریقہ سے غریب سے امیر کی طرف سرمایہ کے انتقال کا سبب بنتا ہے اور پھر غریب سے امیر کی طرف انتقالِ سرمایہ تیسری دنیا کے ممالک کے قرضوں کے ذریعے اوربھی زیادہ چونکادینے کی حد تک واضح ہو گیا ہے لیکن یہ اصول پوری دنیا میں لاگو ہوتا ہے اگر ہم نظام سرمایہ پر غور کریں کہ کب اور کس طرح ہم اس قابل ہونگے کہ نظام کو دوبارہ از سرِ نو سے ترتیب دیں کہ وہ نظا م انصاف کے ساتھ بہترین طریقے سے چل سکے اِنتقال نفع غریب سے امیر کی طرف انتقالِ سرمایہ کی ایک وجہ سود کی ادائیگی اور وصولی ہے۔۔۔!‘‘ ، (علی رضا شاف ، سود کے خلاف جنگ)۔ اگر کوئی غریب مجبوری کی وجہ سے قرض لے تو سب سے پہلے اُس کا مال و متاع ،سونا ، چاندی اور زمین وغیرہ گروی رکھ لیاجاتا ہے ،پھر اُس کا ریٹ کم بتاتے ہیں ۔ریٹ کے بعد سود کی شرح اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا،عام طور پر بنک ۱۵سے ۲۱فیصد تک سود کی شرط رکھتے ہیں ۔ غریب آدمی زیادہ کمانے کے چکر میں پہلا مال بھی گنوابیٹھتا ہے۔’’ سود سے جتنابچو گے اُتنا ہی خوشحال رہو گے ‘‘،(انشااﷲ)۔
    معاشرے میں سود کی بے شمار قسمیں جنم لے چکی ہیں ۔جن میں بنک منافع، بولی والی کمیٹی،موبائل ایڈوانس،(بجلی ،گیس ،پانی اور ٹیلی فون کے) بل ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ (سود)، چینی والی مِلزمیں پیسے جلدی لینے پر ڈسکونٹ،منافع پر قرض اور بیمہ وغیرہ عام ہیں۔ اگر کوئی مجبور انسان کسی وجہ سے قرض اورکمیٹی یا بل وغیرہ وقت پر ادا نہیں کر پاتا تو اسے جرمانے کے نام پر سود لگا دیتے ہیں ، جبکہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو‘‘ ، (البقرۃ،۲۸۰)۔ سود کی تمام قسموں سے باخبر رہیں اور پرہیز کریں ۔
    قرآن و حدیث میں ربا کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے ،یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام ، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اﷲ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اﷲ کی طرف ہے،اور پھر دوبارہ (حرام کی طرف)لوٹا ، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے‘‘، (البقرۃ،۲۷۵)۔ ایک اور مقام پر اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور سود جس سے منع کیے گئے تھے اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں ہم نے ان کے لیے المنا ک عذاب مہیا کر رکھا ہے‘‘، (النساء،۱۶۱)۔ اورنبی پاکﷺ نے فرمایا :’’اگر کوئی شخص ایک درہم سود کھائے اور اسے علم ہو ،تو اس نے۳۶مرتبہ زنا کرنے والے سے بھی زیادہ گناہ گیا‘‘، (مسند احمد) ۔ رسول اﷲﷺ نے ایک اور مقام پر فرمایا:’’سود ۷۳ دروازے رکھتا ہے ، ان دروازوں میں سے سب سے چھوٹا (آخری)دروازہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے نکاح کر لے ‘‘، (الحاکم) ۔ اور حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسولﷲ ﷺ نے لعنت فرمائی :’’ سود کھانے ،سود کھلانے،سود لکھنے اور گواہ بننے والے پر ،اور فرمایایہ( سب لوگ) برابر کے حصہ دار ہیں ‘‘، (مسلم)۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’ اس قوم نے اﷲ کے عذاب کو اپنے اوپر حلال کر لیا ، جس قوم میں زنا اور سود عام ہو جائے ‘‘، (الحاکم)۔ ربا ،سور سے بھی زیادہ حرام ہے ،خنزیرکی کہیں نہ کہیں جا کر گنجائش نکل آتی ہے ،لیکن سود کی نہیں ۔اﷲ پاک فرماتے ہیں :’’تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیزجو اﷲ کے نام کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کردی جائے حرام ہے،پھر جو مجبور ہو جائے (یعنی جان نکل رہی ہو)اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ،اﷲ تعالٰی بخشش کرنے والامہربان ہے ‘‘، (البقرۃ،۱۷۳)۔لیکن جب سود کی باری آئی تو فرمایا:’’ جوسود کھائے گا وہ اﷲ اور رسولﷲ ﷺسے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جائے ‘‘۔ سود ایسی وادی کی طرف لے جاتا ہے جسے جہنم کہتے ہیں۔
    سود دیگر مذاہب میں بھی حرام ہے۔اﷲ تعالیٰ نے یہودیوں کی برائیوں کا ذکر کرتے ہو ئے سود خوری کا بھی تذکرہ کیا ہے،اور تورات میں کئی جگہ سود کی ممانعت کے احکام موجود ہیں چنانچہ تورات کی کتاب استثناء میں ہے: ’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا یا کسی ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جایا کرتی ہو‘‘، (استثناء۲۳:۱۹) ۔ اور فرمایا:’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنااور نہ اس سے سود لینا‘‘ ، (خروج ، باب ۲۲: ۶ ۲ ) ۔احبار کی کتاب میں ہے :’’اور اگر تیرا کو ئی بھائی مفلس ہو جائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تو اسے سنبھالنا ۔وہ پردیسی اور مسافرکی طرح تیرے ساتھ رہے تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا ‘‘،(احبار :باب ۲۵:۵۳تا۳۷)۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح ہندؤں کے مذہب میں بھی سود حرام ہے جیسا کہ مغل شہزادے داراشکوہ اور معروف پنڈت کے درمیان ہونے والے مکالمے سے واضح ہے ۔داراشکوہ نے پنڈت سے پوچھا کیا ہندؤں پر سود لینا حلال ہے ؟تو پنڈت صاحب نے جواب دیا :’’اہل ہنود پر سود لینا حرام سے بھی زیادہ برا ہے‘‘ ۔ اس پر داراشکوہ نے پوچھاکہ پھر سود لیتے کیوں ہیں ؟تو پنڈت نے کہا کہ:’’ یہ رواج پا گیا ہے اور اس کا رواج پانا اس کے نقصان سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ہے‘‘، (اسرار معرفت:۲۱)(حافظ ذوالفقار علی۔ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث لاہور۔۱۹ دسمبر ۲۰۱۳ء:۱۳تا۱۴) ۔ جس طرح دوسری قوموں کو سو د اور دیگر گناہوں کی وجہ سے عذابوں کا سامنا کرنا پڑا ،اگر ہم نے نہ چھوڑا تو ہمارا بھی وہی حال ہو گا۔
    اگر آج ہمارے ملک میں نظام زکوۃ قائم ہو جائے ،تو ہماراتنزلی کی بجائے ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ہر مسلمان اور پاکستان کی ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں ہے ،جب تک سودی نظام کو ترک نہ کر دیں اورقانونِ قرآن نافذ نہ ہو جائے ۔نظامِ زکوۃ سے ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ اٹھے گی ، غریب عوام کو مدد ملے گی ،امیروں کا رزق پاک ہو گااور وہ اپنے پیسے جو بنکوں میں ہیں، کاروبار پر لگائیں گے ،جس سے بے روز گار عوام کو کمانے کا ذریعہ ملے گا ۔ سودمُلک اور قوم کی بربادی کا سبب بنتا ہے ۔اگر ہم سود سے باز نہ آئے تو اﷲاِس فانی دنیا اور آخرت (ہمیشہ رہنے والی دنیا)میں تباہ و برباد کر دے گا۔اپنے غریب بھائیوں کا خون پی کر کب تک مزے کرو گے،اس کے بدلے ہمیشہ رہنے والی زندگی میں دردناک عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔اﷲ تعالیٰ ہمیں سود اور عذاب سے محفوظ فرمائے، (آمین)۔