• Tuesday, July 7, 2015

    السلام علیکم

    دنیا کے ہر مذہب کے لوگ جب آپس میں ملتے ہیں تو کچھ مخصوص الفاظ ادا کرتے ہیں ۔ ہندو ملاقات کے وقت رام رام ، نمسکار یا نمستے ، سکھ جئے گرو اور انگریز گڈ مورننگ ، گڈ ایوننگ یا گڈ نائٹ وغیرہ کہتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان ایک ، دوسرے سے ملتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہتے ہیں ۔ یہ ایک عمدہ ( Excellent ) اور جامع دعا ہے ، جس کی اہمیت قرآن و حدیث سے واضح ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سلام کہنے اور اسکا جواب دینے کی تاکید کی ہے ۔ رب رحمن فرماتے ہیں : ’’ اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو ، بے شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ‘‘ ، ( النساء : ۸۶ ) ۔ اور فرمایا: ’’ پس جب تم گھروں میں جاؤ ، تو اپنے گھر والوں کو سلام کر لیا کرو، دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے اللہ تعالیٰ کی طر ف سے نازل شدہ ، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو ‘‘ ، ( النور : ۶۱ ) ۔ اور مزید فرمایا : اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سو ا پرائے گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو ، یہی تمہارے لیے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ‘‘ ، ( النور : ۲۷ ) ۔ سلام کرنے سے اخوت و ہمدردی اور محبت و مروت بڑھتی ہے ۔ سید المر سلین ﷺ نے بھی سلام کرنے کی بہت اہمیت و فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ سید نا عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے ، ایک آدمی نے نبی پاک ﷺ سے سوال کیا کہ : ’’ اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے ؟ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کھانا کھلاؤ اور سب کو سلام کرو ( چاہے ) تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے ہو ‘‘ ، ( بخاری : ۱۲ ) ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ‘‘ ، پوچھا گیا : ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون سے حقوق ہیں ؟ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم کسی مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو ۔ جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو ۔ جب وہ تم سے نصیحت ( یعنی مشورہ ) طلب کرے تو اس کو اچھی نصیحت کرو ۔ جب وہ چھینک کے بعد الحمداللہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب یر حمک اللہ کہو ۔ اور جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو ۔ اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں جاؤ ‘‘ ، ( مسلم : ۵۳۷۹ ) ۔ اور سیدنا ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کہنے میں پہل کرے ‘‘ ، ( ابو داؤد : ۵۱۹۷ ) ۔ سلام میں پہل کرنے والا غرور و تکبر سے پاک ہوتا ہے ۔ ہر مسلمان کو سلام کے احکام و مسائل کا علم ہونا چاہیے ۔ چھوٹا ، بڑے کو ، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو ، تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو ، سوار پیدل کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے ۔ اگر ایک مرتبہ ملنے کے بعد درمیان میں کوئی دیوار ، پتھر یا درخت آ جائے تو دوبارہ ملاقات کے وقت سلام کرنا چاہیے ۔ کسی مجلس میں جاتے اور رخصت ہوتے وقت سلام کرنا چاہیے ۔ غائبانہ سلام کے جواب میں : ’’ علیک و علیہ السلام و رحمۃ اللہ و بر کاتہ ‘‘ ، کہہ دینا چاہیے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور دوران ملاقات گفتگو سے پہلے سلام کرنا چاہیے ۔ پیشاب کرنے والا کسی کے سلام کا جواب نہ دے ۔ شرابی کو سلام نہیں کرنا چاہیے ۔ صرف ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا جائز نہیں ۔ جب غیر مسلم سلام کہیں تو جواب میں و علیکم کہہ دینا چاہیے ۔ کوئی بھی مسلمان جب اپنی زندگی کتاب و سنت کے مطابق گزارے گا تو اسے ایمان کی حلاوت نصیب ہو گی ۔ ہمیں چاہیے کہ : ’’ ہیلو ، ہائے ، بائے بائے ، گڈ بائے اور ٹا ٹا کی بجائے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ جیسی عظیم سنت عام کریں ‘‘ ۔ جو ہمیں پالنے والے کا حکم اور سید المرسلین ﷺ کا طریقہ بھی ہے ۔ سلام ایسی دعا ہے جس سے محبت و بھائی چارہ بڑھتا ہے ، جو صدقہ اور مسلمان کا حق بھی ہے ۔