• Friday, July 3, 2015

    عصر رواں کے فرعون

    پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد ملا ،جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا۔ وطن لینے کا مقصد مساوات و برابری اور اسلامی قوانین کا نفاذ تھا ۔ لیکن ہوا اس کے برعکس ، نظام حکومت پر ایسے لوگوں نے قبضہ جما لیا جو قرآن کی بات سننا تو دور ، توہین کرنے پر تولے ہوئے ہیں ۔ پنچائت سے لے کر عدالت تک حق و صداقت کی کوئی وقعت ہی نہیں ، عام آدمی کو عدل و انصاف کی جگہ رسوائی ملتی ہے ۔ لوگ صرف پیسے کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کتاب و سنت سے ہمیں ایمانداری اور دیانتداری کا درس ملتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے تو ایک ، دوسرے کے درمیان عدل و انصاف کی تلقین کی ہے ۔ چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ : ’’ میں ، ایک پنچائت میں گیا ‘‘ ۔ فریقین میں سے ایک گروہ کے متکلم نے کہا : ’’ اﷲ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں ‘‘ ، اتنا کہنا تھا کہ ثالث غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے بولا : ’’ یہاں قرآن و حدیث کی بات نہیں ہوگی ‘‘ ۔ میں ایسے ہی فرعونوں کو اﷲ پاک کے قرآن کی وہ آیت بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں جس میں ہے کہ : ’’ جو لوگ اﷲ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں ‘‘ ، ( المائدہ : ۴۴ ) ۔ عدل کے متعلق الرحمن فرماتے ہیں : ’’ اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ، یقیناًعدل والوں کے ساتھ اﷲ محبت رکھتا ہے ‘‘ ، ( المائدہ : ۴۲ ) ۔ایک اور مقام پر ہے : ’’ اے داود ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اﷲ کی راہ سے بھٹکا دے گی ، یقیناًجو لوگ اﷲ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے ‘‘ ، ( ص : ۲۶ ) ۔ کیا ہمارے ملک کا قانون قرآن و حدیث کے مطابق ہے ؟ سید المرسلین ﷺ نے بھی منصف کو خبردار فرما دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ قاضی (یعنی فیصلہ کرنے والے ) کے ساتھ اﷲ کی مدد اور تائید اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ ظلم نہیں کرتا ۔ لہٰذا جب وہ ظلم کرتا ہے تو اﷲ کی مدد کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے ‘‘ ، ( ترمذی : ۱۱۹۴ ) ۔ سیدنا بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ، ایک جنتی اور دو جہنمی ، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا ، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نا دانی سے ( یعنی بغیر جانے پہچانے ) لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے ‘‘ ، ( ابو داود : ۳۵۷۳ ) ۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ‘‘ ، ( ابو داود : ۳۵۷۲ ) ۔ ہمارے ملک کے تمام مسائل کا حل نظام مصطفی ﷺ میں ہے ۔ صحابہ کرامؓ کے عدل و انصاف کی بھی مثال نہیں ملتی ۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطابؓ کے دربار میں ایک نو جوان روتا ہوا آیا ۔ آپ نے اس کی حالت زار دیکھ کر پوچھا : ’’ کیا بات ہے روتے کیوں ہو ، کس مصیبت میں گرفتار ہو ؟ ‘‘ ، کہا : ’’ امیر المومنین میں مصر سے آیا ہوں ۔ وہاں گورنر کے بیٹے محمد بن عمرو بن عاصؓ سے دوڑ میں میرا مقابلہ ہوا میں جیت گیا تو گورنر کے بیٹے نے میری کمر پر کوڑے برسانے شروع کر دیے ۔ زخموں سے میری کمر چھلنی ہو گئی ۔ کافی دیر تک وہ بے دریغ مجھے کوڑے مارتا رہا اور یہ کہتا رہا کہ تمہاری یہ جرأت کہ سرداروں کی اولاد سے آگے بڑھ جائے ‘‘ ۔ نوجوان سے درد بھری داستان سن کر امیر المومنینؓ تڑپ اٹھے اور اسی وقت مصر کی طرف قاصد روانہ کیا کہ وہاں کے گورنر عمرو بن عاصؓ اور اس کے بیٹے کو لے کر آئیں ۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ باپ ، بیٹا دربار خلافت میں حاضر ہوئے ۔ امیرالمومنینؓ نے پوچھا : ’’ عمرو کا بیٹا کہاں ہے ‘‘ ۔ اسے پیش کیا گیا تو فرمایا : ’’ اچھا آپ ہیں سردار کے بیٹے ‘‘ ۔ پھر مصری نوجوان سے کہا : ’’ یہ کوڑا پکڑو اور اس کی پیٹھ پر پورے زور سے مارو ! اسے پتہ چل جائے کہ سرداروں کے بیٹوں کی بے اعتدالیوں پر ان کا حشر کیا ہوتا ہے ‘‘ ۔ اس نوجوان نے جی بھر کر اپنا بدلہ لیا ، یہاں تک کہ صاحبزادے کی کمر سے خون کے فوارے پھوٹ نکلے ۔ آخر کار نوجوان نے کہا : ’’ بس ، امیر المومنینؓ بس ! میرا دل ٹھنڈا ہو گیا ‘‘ ۔ ’’ آپؓ نے تاریخ میں عدل و انصاف کا ایک سنہری باب رقم کر دیا ‘‘ ، ( حکمران صحابہؓ ، صفحہ : ۱۳۵ تا ۱۳۶ ) ۔ جب تک شریعت الٰہی کا نفاذ نہیں ہوگا ، تب تک غیروں کے ہاتھوں سے رسوائی ، بد امنی ، خانہ جنگی ، غربت اور دہشتگردی ہمارا مقدر بنا رہے گا ۔ ظلم و بربریت کی داستاں فرعون تھا غرق ہو گیا ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے ‘‘ ، ( الاعراف : ۱۲۷ ) ۔ فرعون دہشت کی نظیر تھا ، نشان عبرت بن گیا ۔ الرحمن فرماتے ہیں : ’’ اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا چیر دیا اور تمہیں اس سے پار کر دیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا ‘‘ ، ( البقرہ : ۵۰ ) ۔ جو اﷲ پاک کے احکامات کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ، ان کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ کیا آپ نے اسے بھی دیکھا ؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘‘ ، ( الجاثیۃ : ۲۳ ) ۔ ربوبیت کا دعویٰ کرنے والا ، آج کس طرح عجائب گھر میں بے یار و مدد گار پڑا ہے ، اسے دیکھ کر ’’ عصر رواں کے فرعونوں ‘‘ ، کو اﷲ سے ڈرنا چاہیے ۔ ملک افرا تفری کا شکار کیسے نہ ہو ، ہر طرف ظلم و زیادتی اور پارٹی بازی کا ماحول گرم ہے ۔ ہندووں سے الگ ہونے کا مقصد نفاذ اسلام تھا ، لیکن اب شریعی قوانین کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ہم امن و امان سے اس وقت جی سکیں گے جب اپنی خواہشات کی اتباع کو ترک کر کے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں گے ۔ جو کسی پر ظلم کرتے ہیں وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں بھی انہیں درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑئے گا ۔