• Friday, July 10, 2015

    قبولِ حق


    لوگ اتنے خوش تھے کہ جیسے کامیاب و کامران ہو گے ۔ اور ہم باغ باغ  کیوں نہ ہوں ، ہمیں شرک و تقلید سے پاک اور کتاب و سنت پر مبنی راستے کی پہچان ہوگئی ۔ ہمارے دل شاد کیوں نہ ہوں ، ہمیں بدعات سے چھٹکارا مل گیا اور سنتوں سے واقفیت ہو گئی ۔ ہم راضی کیسے نہ ہوں ، ہمیں نمازِ نبوی ﷺ اور طلاق کا درست طریقہ معلوم ہو گیا ۔ عبدالرحمن نے پوچھا : ’’ میرے بھائیوں ! آپ سب باتیں سمجھ گئے ہیں نا ؟ ‘‘ ’’ ہم سمجھ گئے ہیں ، تمام لوگوں نے جواب دیا مگر ضعیف آدمی خاموش رہا ۔ ‘‘ عبدالرحمن نے سنجیدگی سے سوال کیا : ’’ بابا جی ! اگر آپ کوئی بات سمجھنا چاہتے ہیں تو بتائیں ؟ ‘‘ بوڑھا شخص غصے اور زور سے بولا : ’’ میں برادری اور اپنے باپ ، دادے کا عقیدہ کیوں چھوڑوں ؟ بڑا آیا تو قرآن و حدیث والا ، تمہیں معلوم ہے کہ تم جنتی ہو ؟ قیامت کو فیصلہ ہو جائے گا کہ کون سچا تھا ۔ جاؤ ! میں نہیں مانتا تم کو ۔ ‘‘ عبدالرحمن : ’’ حد ہو گئی ! ‘‘ بابا جی ! اگر آپ غلط عقیدے پر جمے رہیں گے تو صرف آپ کا نقصان ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی آپکی آل و اولاد کا بھی خسارہ  ہو جائے گا ۔ کیونکہ آپ کے کنبے کے لوگ بھی یہی کہیں گے کہ : ’’ میں برادری اور اپنے باپ ، دادے کا عقیدہ کیوں چھوڑوں ؟ ‘‘ حالانکہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ : ’’ مشرک کا ہر دور میں ہی یہی جواب رہا ہے کہ ہمارے باپ دادا ایسے کرتے تھے اور ہم ان کی پیروی کریں گے ‘‘ ۔ کیا قوم و برادری قیامت کو آپ کی مدد کر سکے گی ؟ قبول حق سے ہمارا اپنا ہی فائدہ ہے ، اگر ہم باطل پر ہی قائم رہیں گے تو اﷲ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ سچائی کو قبول نہ کرنا کوئی سمجھ داری نہیں ہے بلکہ حق نہ قبول کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب کی وعید ہے ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ سے ڈر ، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ‘‘ ، ( البقرۃ : ۲۰۶ ) ۔ دوسرے مقام پر ہے : ’’ اور اعلان فرما دیجئے ! کہ یہ سراسر بر حق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے ۔ اب جو چاہیے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے ۔ ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی ۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا ، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ ( دوزخ ) ہے ‘‘ ، (الکہف : ۲۹ ) ۔ تیسرے مقام پر ہے : ’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ بولے ؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے ؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے ؟ ( الزمر : ۳۲ ) حق کو قبول کرنے والوں کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پرہیز گار ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ( ہر ) وہ چیز ہے جو یہ چاہیں ، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے ‘‘ ، ( الزمر : ۳۳ تا ۳۴ ) ۔ الرحمن مزید فرماتے ہیں : ’’ یقیناًتمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے ۔ جس نے دیا ( اﷲ کی راہ میں ) اور ڈرا ( اپنے رب سے ) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہا ۔ تو ہم بھی اسکو آسان راستے کی سہولت دیں گے ‘‘ ، ( اللیل : ۴ تا ۷ ) ۔ حق کو قبول کرنے والوں کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں کامیاب کر دیا اور باطل پر جمے رہنے والوں کو اﷲ پاک نے دونوں جہان میں ذلیل و رسوا کر دیا ۔ مثال کے طور پر : ’’ حضرت بلالؓ ، امیہ بن خلف کے غلام تھے ۔ جب حق بات کا علم ہوا تو کسی کی پروا نہ کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ۔ قبولِ اسلام کے جرم میں کفار سیدنا بلالؓ کو گرم ریت پر لٹاتے ، رسی گلے میں ڈال کر گلیوں میں گھسیٹے ، بھوکا رکھتے اور سخت دھوپ میں سینے پر پتھر رکھ دیتے ‘‘ ۔ لیکن حضرت بلالؓ احد احد کی صدا بلند کرتے ۔ حتی کہ سیدنا ابو بکرؓ نے انہیں خرید کر اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے کامیاب کیا کہ : ’’ فتح مکہ کے موقع پر بیت اﷲ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی ، جن کے چلنے کی آواز نبی پاک ﷺ نے جنت میں سنی اور جو غلام سے سردار بن گئے ۔ ‘‘ دوسری طرف عمرو بن ہشام جو سردار تھا ۔ وہ اس قدر ذہین تھا کہ لوگ اسے ابوالحکم یعنی دانائی کا باپ کہتے تھے ۔ جب سید المرسلین ﷺ نے دین حق کی دعوت دی تو اس نے مسلمانوں اور نبی پاک ﷺ کو تکلیفیں پہنچانا شروع کردیں ۔ تکبر و غرور کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ ابو جہل ہے یعنی جہالت کا باپ ہے ‘‘ ۔ ابو جہل کو جنگ بدر میں دو نو عمر جوانوں نے جہنم واصل کر دیا ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : ’’ اور ( دوزخی ) کہیں گے کہ اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں ( شریک ) نہ ہوتے ۔ پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا ۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں ( دور ہوں ) ‘‘ ، ( الملک : ۱۰ تا ۱۱ ) ۔ ضعیف آدمی کی آنکھوں سے قطار در قطار آنسو ٹپکنے لگے اور وہ بول پڑا : ’’ بس کرو بیٹا ، بس کرو ! میں ہار گیا اور تم جیت گئے ۔ میں نے ساری زندگی قرآن و حدیث کی مخالفت ہی کی ہے ۔ برادری کے پیچھے لگ کر میں اندھا ہی ہو گیا اور کتاب و سنت کی بھی پروا نہیں کی ۔ میں توحید و سنت کی دعوت سننا پسند ہی نہیں کرتا تھا اور شرک و تقلید کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین بنا رکھا تھا ۔ سنت نبوی ﷺ کو چھوڑ کر بدعات کو سینے سے لگاتا رہا ۔ میں عاشق رسول ﷺ ہونے کے دعوے تو بہت کرتا تھا لیکن نماز نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھنا گوارہ نہ تھا ۔ اگر کوئی اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ کی بات کرتا تو عقلی دلائل دے کر اسے بات ہی نہ کرنے دیتا ۔ کیا اﷲ تعالیٰ مجھ جیسے ظالم کو معاف فرما دے گا ؟ ‘‘ عبدالرحمن خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولا : بابا جی ! اگر آپ سچی توبہ کریں تو اﷲ پاک خطاوں کو نیکیوں میں تبدیل فرما دے گا کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’مگر جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اﷲ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ، اﷲ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے ۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وہ تو (حقیقتاََ ) اﷲ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے ‘‘ ، ( الفرقان : ۷۰ تا ۷۱ ) ۔ اﷲ پاک مزید فرماتے ہیں : ’’ ( میری جانب سے ) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اﷲ تم اﷲ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ ، بالیقین اﷲ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ، واقعی وہ بڑی بخشش اور بڑی رحمت والا ہے ‘‘ ، ( الزمر : ۵۳ ) ۔ ’’ میں کچھ پوچھ سکتا ہوں ، پیر بخش نے کہا ۔ ‘‘ ’’ ضرور پوچھیں ، عبدالرحمن مسکراتے ہوئے ۔ ‘‘ پیربخش : آپ نے کہاکہ: ’’ آپ کا نام عبدالنبی تھا ۔ آپ کو خبر ملی کہ مشرکین مکہ بھی ایسے ہی نام رکھتے تھے تو آپ نے نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھ لیا ‘‘ ۔ ناموں متعلق کچھ بتا دیں کہ کیسے نام رکھنے چاہیے؟ عبدالرحمن : نام رکھنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ : ’’ اﷲ پاک کے اسماء حسنیٰ کی طرف نسبت کر کے ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ یا اولیاء اﷲ کے ناموں پر نام رکھے جائیں ۔ ‘‘ بد قسمتی سے ! مسلمانوں نے بھی مشرکین مکہ کی طرح ہی نام رکھنے شروع کردیے ۔ جیسا کہ : ’’ ابو لہب کا اصل نام عبدالعزہ تھا ( یعنی عزہ کا بندہ ، عزہ ایک بت کا نام تھا ) ‘‘ ۔ مسلمانوں نے بھی شرکیہ نام رکھے ، مثلاََ : ’’ پیراں دتہ ، پیر بخش اور علی بخش وغیرہ ‘‘ ۔ ’’ بیٹا ! اب میں اپنا نام کیا رکھوں ؟ بوڑھے شخص نے سوال کیا ۔ ‘‘ ’’ پہلے آپ کا نام کیا ہے ؟ عبدالرحمن نے پوچھا ۔ ‘‘ ’’ پیراں دتہ ، ضعیف آدمی بولا ۔ ‘‘ ’’ آپ اﷲ دتہ رکھ سکتے ہیں ، عبدالرحمن نے کہا ۔ ‘‘ ’’ مجھے بھی کوئی نام بتا دیں ؟ پیر بخش ۔ ‘‘ ’’ آپ اپنا نام اﷲ بخش رکھ لیں ، عبدالرحمن نے جواب دیا ۔ ‘‘ ’’ کثیر التعداد لوگوں نے جن کے نام شرکیہ تھے ، تبدیل کر لئے ‘‘ ۔ عوام الناس کی آنکھوں سے ضبط کی کوشش کے باوجود آنسو ٹپک رہے تھے ۔ تمام لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ قرآن و حدیث پر خود بھی عمل کریں گے اور اس کا پیغام دوسروں تک بھی پہنچائیں گے ۔ ’’ آپ اپنا موبائل نمبر دے دیں تاکہ ہم رابطہ کر کے دینی سوال کر سکیں ، اﷲ بخش نے کہا ۔ ‘‘ عبدالرحمن مسکراتے ہوئے : ’’ یہ تو بہت ضروری ہے ، جزاک اﷲ خیر‘‘ ۔ بھائیوں ! میرا موبائل نمبر لکھ لو ، جسے لکھنا نہیں آتا وہ بعد میں اﷲ بخش سے نمبر لکھوا لینا ۔ کسی قسم کا کوئی بھی مسئلہ ہو آپ ، مجھ سے پوچھ سکتے ہیں ۔ ’’ 0336-4236117‘‘ ، میرا موبائل فون نمبر ہے ۔ ٹھیک ہے میرے بھائیوں ! ان شاء اﷲزندگی رہی تو پھر ملیں گے ۔ اگر میں نے کسی کا دل دکھایا ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔ السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ کہہ کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے ۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگ منتشر ہو گئے ۔ یہ مضمون ’’ حد ہو گئی ! ‘‘ ، ناول سے لیا گیا ہے ۔ مکمل ناول پڑھنے یا پی ڈی ایف ( PDF) ڈون لوڈ کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں : Link1: http://www.scribd.com/doc/268024515/Had-Ho-Gai Link2: http://universalurdupost.com/?p=26262